نئی دہلی،7 ؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )اس ہفتے جموں و کشمیر کا دورہ کرنے والے کل جماعتی وفد نے آج مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے سبھی متعلقہ فریقوں سے بات چیت کرنے کے لیے کہا لیکن ساتھ ہی زور دیا کہ ملکی خودمختاری کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت والے وفد نے آج یہاں میٹنگ کی اور گذشتہ 4 اور 5 ؍ستمبر کو کشمیر کے دورے کے دوران سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور سرکاری حکام کے ساتھ ہوئی اپنی بات چیت کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا۔وفد نے میٹنگ کے بعد متفقہ طور پر جاری کئے گئے ایک بیان میں ریاست کے لوگوں سے تشدد کا راستہ چھوڑنے اور بات چیت اور گفتگو کے ذریعے تمام مسائل کا حل نکالنے کی اپیل کی۔حریت کانفرنس سمیت علیحدگی پسندوں کی طرف اشارہ کئے بغیر بیان میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے سبھی فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے اقدامات کرنے کو کہا گیا ہے۔جہاں کچھ اپوزیشن لیڈران حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملے وہیں حریت کے سخت گیر دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔بیان میں ریاست کی موجودہ صورت حال کو لے کر سنجیدہ غورو فکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ وفد کے ارکان کا خیال ہے کہ ایک صحت مند معاشرے میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔اس میں کہا گیاہے کہ ملکی خودمختاری کے مسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔میٹنگ میں دونوں حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے کہ ریاست میں تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور کاروباری اداروں کا کام کاج جلد سے جلد معمول پر لوٹ آئے ۔انہوں نے حکومت سے تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور تحریک میں زخمی ہوئے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو علاج مہیا کرانے کے لیے موثر قدم اٹھانے کی درخواست کی۔میٹنگ کے بعد سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ انہوں نے فوری طور پر اعتماد سازی کے اقدامات شروع کرنے کی حمایت کی جس میں پیلیٹ گن کے استعمال پر پابندی ، زخمیوں کو علاج فراہم کرنے اور سیکورٹی فورسز کے مبینہ مظالم کی تحقیقات کرانا شامل ہے۔